قرآن کریم میں سورہ الاعراف میں آیت نمبر ۱۲ سے ۱۷ تک اللہ اور شیطان کے درمیان مکالمہ ہوا ہے۔ آیت نمبر۱۷ میں شیطان کہتا ہے:
ثُمَّ لَآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَائِلِهِمْ ۖ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ
پھر میں یقیناً ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے ان کے پاس آؤں گا، اور (نتیجتاً) تو ان میں سے اکثر لوگوں کو شکر گزار نہ پائے گا
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شیطان نے یہ کیوں نہیں کہا کہ میں اوپر اور نیچے سے بنی آدم کے پاس آوں گا
سورہ نور میں اللہ فرماتا ہے:
قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ
آپ مومن مَردوں سے فرما دیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں، یہ ان کے لئے بڑی پاکیزہ بات ہے۔ بیشک اللہ ان کاموں سے خوب آگاہ ہے جو یہ انجام دے رہے ہیں
خالی نیچے کیوں دائیں یا بائیں کیوں نہیں۔ بھئ اگر سامنے سے نامحرم مرد یا عورت آرہے ہیں تو بندہ ادھر ادھر دیکھ لے۔۔نیچے ہی کیوں؟
اب دونوں آیتوں کے ترجمہ کو دوبارہ پڑھیں
کیا اس سے یہ نہیں معلوم چلتا کہ شیطان جو کہ ایک جن ہے وہ ایک دو جہتی یعنی Two dimenstional مخلوق ہے؟
لیکن اس سے پہلے حتمی رائے ظاہر کی جائے، یہ بات بھی ذہن نشین رکھی جائے کہ ملکہ صبا کا تخت جو کہ ایک سہ جہتی یعنی ایک Three-dimenstional object تھا اسکو وہ پلک جھپتے اٹھا لایا
اسکے علاوہ شیاطین اور جنات لوگوں کی چیزیں چوری اور ادھر ادھر کرتے ہیں تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ شیطان 2D مخلوق تو نہیں لگتی بلکہ سہ جہتی سے اوپر کی مخلوق ہے جس کی وجہ سے ہم کو نظر بھی نہیں آتی
ماڈرن سائنس یہ کہتی ہےکہ اعلیٰ جہتی جیتی مخلوقات اپنے سے نیچے لیول کی چیزوں تک رسائ رکھتی ہیں جیسے کہ ہم ایک لکیر اور چوکور یا دائرے کو دیکھ سکتے ہیں
تو پھر شیطان اوپر اور نیچے سے حملہ کیوں نہیں کرسکتا؟
بظاہر لگتا ہے کہ ایک اعلی جہتی مخلوق ہونے کے باوجود اسکے کام کا طریقہ کار محدود ہے یعنی وہ خاص سمتوں سے ہی حملہ کرسکتا ہے اور شائد اللہ نے اوپر اور نیچے اسکی رسائ شائد اس لئے محدود کردی کہ جب اللہ کا بندہ کوئ گناہ کرے تو اسکو اوپر دیکھ کر دعا کرنے یا نیچے سجدے میں جاکر دعا مانگنے میں کوئ دقت نہ ہو۔

