شام میں جو کچھ چند عرصہ سے جو ہورہا ہے اس کو ڈرامہ کہیں ی تماشہ، بہرحال جو بھی ہے بڑا مضحکہ خیز ہے۔ ویسے تو اس میں سب کچھ صاف نظر آرہا ہے مگر حسب عادت ایک طبقہ نے خوشی کے مارے ناچ ناچ کر گھنگرو توڑ دئے ہیں کہ أعوذ بالله جیسے امام مہدی آگئے ہیں یا وہ لشکر آگیاہے جو بیت المقدس آزاد کروائے گا۔
ابو محمد الجولانی جن کو ان کے "شاندار کیریر" کی وجہ سے Jewlani بھی کہاجاتا ہے، چند عرصہ پہلے اچانک سے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دنیا کے سامنے "فاتح شام" کی حیثت سے شام آئے۔ دنیا بھر کا میڈیا جو اس رائل کی فلس طین میں بربریت کو دکھارہا تھا جس سے موجود دور کے نازیو ں کی قلعی کھل کر سامنے آگئ تھی وہ کافی پریشان تھا کیونکہ دنیا بھر میں مظاہرے ہورہے تھے۔ ویسے تو جو سب ہورہا ہے میں اسکو حما س کی اسر ا ئیل کے لئے سہولت کاری کےعلاوہ کچھ نہیں سمجھتا مگر جو بھی تھا اس بربریت کی وجہ سے دنیا شور کررہی تھی۔ یاد رہے کہ یہ صاحب وہی ہیں جو پہلے موساد کی بنائ گئ ISIS میں تھے اور اس سے پہلے القائدہ میں۔
اچانک سے خبریں آنا شروع ہوئیں کہ شام میں "مجاہدین" جن کو میں اور کئ خوارج سمجھتے ہیں، آن کی آن مٰیں علاقہ "فتح" کرنا شروع کردیے. مسجد بنو امیہ اور مسجد خالد بن ولید سے "سجدہ" کرتے ہوئے تصاویر آنا شروع ہوگئیں۔ جب بھی کوئ خبر بریک ہو اس میں یہ دیکھنا چاہہے کہ کس کا فائدہ ہے۔ اس "فتح" کا سب سے زیادہ جشن اسر ا ئہل میں منایا گیا۔ انکا میڈیا "جیولانی" کو ہیرو قرار دے رہا تھا۔ مجھ کو نہیں معلوم یہ "فتح" ان ڈرامہ بازوں کو کیون منسوب کروائ جارہی ہے کیونکہ ایران اور روس بشار الاسد کے اوپر سے پہلے ہی ہاتھ اٹھا چکے تھے۔ یہ خوارجی نہ بھی ہوتے تو شام تو ویسے ہی بنا حکومت کے ہونا تھا۔ بشار تو روس میں صبح کو روزانہ جانگ کررہا ہے اسکی تصاویر آرہی ہیں تو کونسی فتح۔ امریکا، اسرائیل اور بغیر دماغ والے سنیوں نے خوش ہونا شروع کردیا۔ اس نام نہاد "فتح" کے بعد شام میں کیا ہوا؟
۔ اسرا ئل نے جولان کے ان علاقوں پر کئ دہائیوں بعد قبضہ کرلیا جو شام کی دسترس میں تھے۔
۔ وہ لوگ اپنے ٹینکوں کے ساتھ اندر گھس گئے۔
۔ جولانی نے اعلان کیا کہ وہ اور اسکے مجاہدین اسرا ئیل پر حملہ نہیں کریں گے اور شام پر "فوکس" رکھیں گے 😃
۔ موجودہ دور کا لارنس آف عریبیہ اردغان اور اسرا ئیل نے شام پر فضائ حملے کرنا شروع کردئے کیونکہ اس ڈرامہ باز ارتغرل کے نزدیک "سلطنت عثمانیہ" کا قیام زیادہ عزیز ہے
یہ سب جو کہ رہا ہوں یہ ساری خبریں ہیں، کوئ فسانہ نہیں ، اسکی تحقیق کی جاسکتی ہے۔
کیونکہ دنیا کو دکھانا تھا کہ سب یہ قدرتی طور پر ہوا ہے تو وہاں مساجد سے سجدہ کرتے ہوئے تصاویر وائرل کروائ گئیں، اذان دلواگئ گئ کہ سنیوں کو فتح مل گئ ہے۔ دنیا Optics پر چلتی ہے اور یہ سب بہت اہم تھے۔ چلو نوجوان تو کم عقل ہوتے ہیں، مجھ کو یہ حیرت ہوئ کہ مساجد سے ان نوسر بازوں کے لئے دعائیں مانگی گئیں، پڑھے لکھے لوگ بنا تحقیق بس اس پر خوش ہورے تھے۔ کوئ سوال کرے یہ "مجاہد" فلس طین کیوں نہیں ازاد کروارہے۔ روس اور امریکا کی ڈیل سے خالی شام پر کیوں خوشیاں منارہے ہیں؟
سوال یہ کہ نقصان کس کا ہوا، فلس طین کا، تمام دنیا کی توجہ ہٹ کر ان نام نہاد مجاہدوں جن کو شٰیخ عمران حسین نے بھی خوارجی قرار دے دیا ہے، پر فوکس ہوگئ، کوئ اب غ ز ہ کی بربریت پر بات نہیں کررہا۔ مسلک پرست، فرقہ پرستی کی گند میں گھلے ہوئے لوگ صرف اسکو "شیعہ سنی" کا معرکہ سمجھ کر خوش ہیں، ان ناعاقبت اندیشوں کو معلوم نہیں کہ چند عرصہ بعد یہ شام میں بھی وہی رونا کریں گے اور اللہ سے گناہوں کی توبہ اور ملامت کریں گے حالانکیہ یہ ان کو اپنی جہالت کا نتجہ ہوگا۔
میرے والد مرحوم کا ایک شاگرد تھا جو "کٹر شعیہ" تھا۔ اس نے ابو اسے ایک دن کہاں کہ "سنی" سنی سنائ باتوں پر یقین رکھتے ہیں۔ حسب توقع میرے والد کو غصہ آیا اور سرزنش کی مگر آج لگتا ہے کہ صحیح تھا۔ سنیوں کے عام لوگوں اور علما نے قسم کھائ ہے کہ دماغ استعمال نہیں کرنا اور نہ تحقیق کرنی ہے۔ نسل در نسل اندھی تقلید چل رہی ہے۔ کیا قرآن میں اللہ نے سورہ حجرات میں یہ نہیں فرمایا:
’اے ایمان والو !اگر کوئی شریر آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لاوے تو خوب تحقیق کرلیا کرو ،کبھی کسی قوم کو نادانی سے کوئی ضرر نہ پہنچادو، پھر اپنے کیے پر پچھتانا پڑے۔‘‘
اور حدیث:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے (صحيح مسلم، باب النهى عن الحديث بكل ما سمع، (1/ 8) برقم (7)، ط/ دار الجيل بيروت)
اللہ بچائے ایسے لوگوں سے اور انکو ہدایت دے۔
ابو محمد الجولانی جن کو ان کے "شاندار کیریر" کی وجہ سے Jewlani بھی کہاجاتا ہے، چند عرصہ پہلے اچانک سے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دنیا کے سامنے "فاتح شام" کی حیثت سے شام آئے۔ دنیا بھر کا میڈیا جو اس رائل کی فلس طین میں بربریت کو دکھارہا تھا جس سے موجود دور کے نازیو ں کی قلعی کھل کر سامنے آگئ تھی وہ کافی پریشان تھا کیونکہ دنیا بھر میں مظاہرے ہورہے تھے۔ ویسے تو جو سب ہورہا ہے میں اسکو حما س کی اسر ا ئیل کے لئے سہولت کاری کےعلاوہ کچھ نہیں سمجھتا مگر جو بھی تھا اس بربریت کی وجہ سے دنیا شور کررہی تھی۔ یاد رہے کہ یہ صاحب وہی ہیں جو پہلے موساد کی بنائ گئ ISIS میں تھے اور اس سے پہلے القائدہ میں۔
اچانک سے خبریں آنا شروع ہوئیں کہ شام میں "مجاہدین" جن کو میں اور کئ خوارج سمجھتے ہیں، آن کی آن مٰیں علاقہ "فتح" کرنا شروع کردیے. مسجد بنو امیہ اور مسجد خالد بن ولید سے "سجدہ" کرتے ہوئے تصاویر آنا شروع ہوگئیں۔ جب بھی کوئ خبر بریک ہو اس میں یہ دیکھنا چاہہے کہ کس کا فائدہ ہے۔ اس "فتح" کا سب سے زیادہ جشن اسر ا ئہل میں منایا گیا۔ انکا میڈیا "جیولانی" کو ہیرو قرار دے رہا تھا۔ مجھ کو نہیں معلوم یہ "فتح" ان ڈرامہ بازوں کو کیون منسوب کروائ جارہی ہے کیونکہ ایران اور روس بشار الاسد کے اوپر سے پہلے ہی ہاتھ اٹھا چکے تھے۔ یہ خوارجی نہ بھی ہوتے تو شام تو ویسے ہی بنا حکومت کے ہونا تھا۔ بشار تو روس میں صبح کو روزانہ جانگ کررہا ہے اسکی تصاویر آرہی ہیں تو کونسی فتح۔ امریکا، اسرائیل اور بغیر دماغ والے سنیوں نے خوش ہونا شروع کردیا۔ اس نام نہاد "فتح" کے بعد شام میں کیا ہوا؟
۔ اسرا ئل نے جولان کے ان علاقوں پر کئ دہائیوں بعد قبضہ کرلیا جو شام کی دسترس میں تھے۔
۔ وہ لوگ اپنے ٹینکوں کے ساتھ اندر گھس گئے۔
۔ جولانی نے اعلان کیا کہ وہ اور اسکے مجاہدین اسرا ئیل پر حملہ نہیں کریں گے اور شام پر "فوکس" رکھیں گے 😃
۔ موجودہ دور کا لارنس آف عریبیہ اردغان اور اسرا ئیل نے شام پر فضائ حملے کرنا شروع کردئے کیونکہ اس ڈرامہ باز ارتغرل کے نزدیک "سلطنت عثمانیہ" کا قیام زیادہ عزیز ہے
یہ سب جو کہ رہا ہوں یہ ساری خبریں ہیں، کوئ فسانہ نہیں ، اسکی تحقیق کی جاسکتی ہے۔
کیونکہ دنیا کو دکھانا تھا کہ سب یہ قدرتی طور پر ہوا ہے تو وہاں مساجد سے سجدہ کرتے ہوئے تصاویر وائرل کروائ گئیں، اذان دلواگئ گئ کہ سنیوں کو فتح مل گئ ہے۔ دنیا Optics پر چلتی ہے اور یہ سب بہت اہم تھے۔ چلو نوجوان تو کم عقل ہوتے ہیں، مجھ کو یہ حیرت ہوئ کہ مساجد سے ان نوسر بازوں کے لئے دعائیں مانگی گئیں، پڑھے لکھے لوگ بنا تحقیق بس اس پر خوش ہورے تھے۔ کوئ سوال کرے یہ "مجاہد" فلس طین کیوں نہیں ازاد کروارہے۔ روس اور امریکا کی ڈیل سے خالی شام پر کیوں خوشیاں منارہے ہیں؟
سوال یہ کہ نقصان کس کا ہوا، فلس طین کا، تمام دنیا کی توجہ ہٹ کر ان نام نہاد مجاہدوں جن کو شٰیخ عمران حسین نے بھی خوارجی قرار دے دیا ہے، پر فوکس ہوگئ، کوئ اب غ ز ہ کی بربریت پر بات نہیں کررہا۔ مسلک پرست، فرقہ پرستی کی گند میں گھلے ہوئے لوگ صرف اسکو "شیعہ سنی" کا معرکہ سمجھ کر خوش ہیں، ان ناعاقبت اندیشوں کو معلوم نہیں کہ چند عرصہ بعد یہ شام میں بھی وہی رونا کریں گے اور اللہ سے گناہوں کی توبہ اور ملامت کریں گے حالانکیہ یہ ان کو اپنی جہالت کا نتجہ ہوگا۔
میرے والد مرحوم کا ایک شاگرد تھا جو "کٹر شعیہ" تھا۔ اس نے ابو اسے ایک دن کہاں کہ "سنی" سنی سنائ باتوں پر یقین رکھتے ہیں۔ حسب توقع میرے والد کو غصہ آیا اور سرزنش کی مگر آج لگتا ہے کہ صحیح تھا۔ سنیوں کے عام لوگوں اور علما نے قسم کھائ ہے کہ دماغ استعمال نہیں کرنا اور نہ تحقیق کرنی ہے۔ نسل در نسل اندھی تقلید چل رہی ہے۔ کیا قرآن میں اللہ نے سورہ حجرات میں یہ نہیں فرمایا:
’اے ایمان والو !اگر کوئی شریر آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لاوے تو خوب تحقیق کرلیا کرو ،کبھی کسی قوم کو نادانی سے کوئی ضرر نہ پہنچادو، پھر اپنے کیے پر پچھتانا پڑے۔‘‘
اور حدیث:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے (صحيح مسلم، باب النهى عن الحديث بكل ما سمع، (1/ 8) برقم (7)، ط/ دار الجيل بيروت)
اللہ بچائے ایسے لوگوں سے اور انکو ہدایت دے۔
کوئی تبصرے نہیں :
ایک تبصرہ شائع کریں